Tazkirul Quran (Urdu) · The Crowds (Al-Zumar)

Tazkirul Quran, Qur’an 39:36–37

The Crowds (Al-Zumar)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے داعی تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ’’خدا ایک ہے‘‘کے مثبت اعلان پر اکتفافرمائیں۔ اسی کے ساتھ آپ ان غیر خدائی ہستیوں کی تردید بھی فرماتے تھے جن کو لوگوں نے بطور خود معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت کا یہی دوسرا جزء لوگوں کےلیے ناقابل برداشت بن گیا۔

یہ غیر خدائی ہستیاں دراصل ان کے قومی اکابر تھے۔ صدیوں سے وہ ان کی کرامت کی مبالغہ آمیز داستانیں سنتے آرہے تھے۔ ان کے ذہن پر ان ہستیوں کی عظمت اس طرح چھا گئی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تقدس کی تردید فرمائی تو ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آیا کہ وہ غیر مقدس کیسے ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ تم تباہ ہوجاؤ گے۔ یا تم کو جنون ہو جائے گا (لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ) تفسیرالبغوی، جلد4، صفحہ 90۔

مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پروا نہ کرے۔ وہ اللہ کے بھروسے پر اثباتِ توحید اور تردیدِ شرک کا دو گونہ کام جاری رکھے۔ کیوں کہ اس کے بغیر امر حق پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page