Tazkirul Quran, Qur’an 4:11–14
Women (Al-Nisa’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس لیے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کردیے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کیے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحیط لأبی حیان الأندلسی، جلد 3، صفحہ549۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔