Tazkirul Quran, Qur’an 4:15–18
Women (Al-Nisa’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس کے بعد تو لازم ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ شفقت اور درگزر کا معاملہ کیا جائے۔ کسی کے ماضی کی بنیاد پر اس کو مطعون کرنا درست نہیں۔ جب الله توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتاہے اور اپنی اصلاح کرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔
توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہیں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کہیں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریں گے۔
توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔