Tazkirul Quran (Urdu) · The Sand Dunes (Al-Ahqaf)

Tazkirul Quran, Qur’an 46:12–14

The Sand Dunes (Al-Ahqaf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن کی صداقت کی ایک دلیل یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابیں اس کی پیشین گوئی کرتی رہی ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں آج بھی انجیل اور تورات میں موجود ہیں۔ اس طرح قرآن اپنی سابق آسمانی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہے۔ وہ ان کی پیشگی اطلاع کو سچ کردکھاتا ہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ قرآن، واقعةً ایک خدائی کتاب ہے۔ ورنہ سیکڑوں اور ہزاروں سال پہلے اس کی پیشگی خبر دینا کیسے ممکن ہوتا۔

’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسلہ میں حضرت عبد الله بن عباس سے مروی ہے کہ اس سے مراد اس کے فرائض کی ادائیگی پر قائم رہنا ہے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ425۔

ایمان ایک مقدس عہد ہے۔ زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک روش آدمی کے عهدِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے اور ایک روش اس کے عہد ایمان کے غیر مطابق۔ ایسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عہد ایمان کے مطابق عمل کیا اس نےاستقامت دکھائی اور جو شخص اپنے عہد ایمان کے مطابق عمل نہ کرسکا وہ استقامت دکھانے میں ناکام رہا۔

استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page