Tazkirul Quran, Qur’an 47:4–6
Muhammad (Muhammad)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
یہاں انکار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اتمام حجت کے باوجود ایمان نہیں لائے اور مزید یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو ان سے لڑ کر ان کا زور توڑ دو، تاکہ وہ آئندہ دعوت حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں ۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ اسلام میں جنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریقِ ثانی حملہ کردے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے (الحج،22:39؛ التوبۃ، 9:13)۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں ۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اوّل و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پُر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ متشددانہ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ جن قوموں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک کردی گئیں ۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ شرک کا دور ختم کیا جائے اور توحید کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لائی جائے۔ ایسے تاریخ ساز انسانوں کا انتخاب سخت ترین حالات ہی میں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ مخالفین کی طرف سے چھیڑی ہوئی جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں کو داخل کرکے یہی فائدہ حاصل کیا گیا۔
جنت مومن کی ایک انتہائی معلوم چیز ہے۔ وہ نہ صرف پیغمبر سے اس کی خبر سنتا ہے بلکہ اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ وہ اس کا تصوراتی ادراک بھی کرلیتا ہے۔جنت کے پہچان کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا سے۔جو شخص آخرت اور جنت کے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے، وہ جنت کے بارے میں سراغ (clues) پالیتاہے ۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ (similar) بنایا ہے(البقرہ، 2:25)۔ جب ایک مومن خدا کی کتاب میں اور اس کائنات میں غور وفکر کرتاہے تو وہ اِس حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے کہ موجودہ دنیا، جہاں خدا نے اس کو رہنے کا موقع دیا ہے، وہ جنت کے مشابہ دنیا ہے۔غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔