Tazkirul Quran, Qur’an 47:7–11
Muhammad (Muhammad)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
واقعات کو ظہور میں لانے والا خدا ہے۔ مگر وہ واقعات کو اسباب کے پردہ میں ظہور میں لاتا ہے۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ باطل کا زور ٹوٹے اور حق کو دنیا میں غلبہ اور استحکام حاصل ہو۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کچھ ایسے افراد درکار ہیں جو اس خدائی عمل کا انسانی پردہ بنیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کو یہاں خدا کی نصرت کرنا کہا گیا ہے۔
جب ایک گروہ خدا کی نصرت کے لیے اٹھتا ہے تو وہ اسی کے ساتھ دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ وہ منکرین کا منکرین ہونا ثابت کرتا ہے۔ خدا کی نصرت کرنے والے افراد انتہائی سنجیدگی اور خیرخواہی کے ساتھ لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ ہر خلاف حق رویہ سے بچتے ہوئے دین کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ حق کے حق ہونے کو آخری حد تک ثابت شدہ بنا دیتے ہیں۔ اس طرح منکرین کے اوپر وہ اتمام حجت ہوجاتا ہے جو آخرت کے فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
باطل پرست لازماً زیر ہوتے ہیں اور حق پرست لازماً ان کے اوپر غالب آتے ہیں، بشرطیکہ حق پرست گروہ اُس عمل کو انجام دے جو خدا کی سنت کے مطابق خدا کی حمایت کو حاصل کرنے کے لیے انجام دینا چاہیے۔