Tazkirul Quran, Qur’an 57:22–24
Iron (Al-Hadid)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پر چہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہیے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہوجائے۔آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں حالتوں کا استقبال معتدل نفسیات کے ساتھ کرے۔ ظاہری کامیابی بھی اس کے لیے فکری غذا کا ذریعہ ہو، اور ظاہری ناکامی بھی اس کی روحانیت میں اضافہ کرے۔ کوئی بھی واقعہ اس کے ذہن کو اس طرح ڈسٹرب نہ کرے کہ وہ مثبت طور پر سوچنے کے قابل نہ رہے۔