Tazkirul Quran, Qur’an 57:26–27
Iron (Al-Hadid)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اللہ کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی دین لے کر آئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کے نام پر بدعتیں ایجاد کرلیں ۔ اس کی ایک مثال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیرو ہیں ۔ حضرت مسیح کے ذمہ صرف دعوت کا کام تھا۔ آپ کی پیغمبرانہ ذمہ داری میں قتال شامل نہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے زیادہ داعیانہ اخلاق پر زور دیا۔ اور داعیانہ اخلاق سراسررافت و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ وہ لوگوں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر رافت و رحمت کا طریقہ اختیار کریں ۔ مگر حضرت مسیح کے بعد آپ کے پیرو اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ ان کا یہ مزاج انہیں رہبانیت کی طرف بہا لے گیا۔ اعراض دنیا کی جو تعلیم انہیں دعوت کے مقصد سے دی گئی تھی اس کو انہوں نے مزید مبالغہ کے ساتھ ترک ِدنيا کے لیے اختیار کرنا شروع کردیا۔
’’رہبانیت‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی خدا کے نام پر دنیا کو چھوڑ دے۔ حضرت مسیح کے پیروؤں کا ترکِ دنیا مذہب کے نام پر غلو سے پیدا ہوا تھا۔ ان کو جس زہد کی تعلیم دی گئی تھی، وہ نفسیاتی زہد تھا۔ مگر انھوں نے نفسیاتی زہد کے حکم کو جسمانی زہد کے معنی میں لے لیا۔ قرآن کے مطابق، مومن وہ انسان ہے جو انسانوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے، مگر اس کی توجہ خدا کی طرف لگی رہتی ہے ۔ وہ بظاہر مادی کام میں مشغول دکھائی دیتا ہے، مگر اس کا ذہن روحانی سطح پر سرگرم رہتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو آخرت میں بسیرا لیے ہوئے ہو(النور، 24:37)۔