Tazkirul Quran (Urdu) · The Pleading (Al-Mujadalah)

Tazkirul Quran, Qur’an 58:17–21

The Pleading (Al-Mujadalah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

مدینہ کے منافقین اسلام کی جماعت میں شامل تھے۔ اسی کے ساتھ وہ یہود سے بھی ملے ہوئے تھے۔ یہی ہمیشہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے، جو حق کو پوری یکسوئی کے ساتھ اختیار نہ کرسکیں۔ ایسے لوگ بظاہر سب سے ملے ہوئے ہوتے ہیں مگر حقیقۃً وہ صرف اپنے مفاد کے وفادار ہوتے ہیں۔ خواہ وہ قسمیں کھا کر اپنے حق پرست ہونے کا یقین دلا رہے ہوں۔

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتی کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page