Tazkirul Quran (Urdu) · The Day of Congregation (Al-Jumu‘ah)

Tazkirul Quran, Qur’an 62:5–8

The Day of Congregation (Al-Jumu‘ah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

کسی گروہ کے لیے حاملِ کتاب ہونے کے دو درجے ہیں ، ایک یہ کہ وہ ’’انسان‘‘ کی سطح پر اس کا حامل بنے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ ’’حیوان‘‘ کی سطح پر اس کا حامل بنا ہوا ہو۔ خدا کی کتاب جب کسی قوم کو دی جاتی ہے تو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس کو اپنے اندر اتارے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ مگر جو قوم اس معنی میں کتاب آسمانی کی حامل نہ بن سکے اس کی مثال اس گدھے کی سی ہوگی جس کے اوپر علمی کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اس کو کچھ خبر نہ ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے۔

ایک حقیقی انسان جب کتاب ِ خداوندی کا حامل ہو تو اس کا پورا وجود اس کتاب کا حامل بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت شعوری طور پر ربانی پرسنالٹی میں ڈھل جاتی ہے۔ حیوان کی سطح پر حاملِ کتاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ’’جسم‘‘ تو کتابِ الہی کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے، مگر ان کی ’’روح‘‘ کتابِ الہی کی حامل نہیں ہوتی۔ ظاہری طور پر وہ اپنے ہاتھ میں خدا کی کتاب کو تھامے ہوئے ہوتے ہیں ، مگر ان کا دل اور دماغ اس کی روشنی اور حرارت سے خالی ہوتا ہے۔

آسمانی کتاب کی حامل پچھلی قوموں نے اپنے بعد کے زمانوں میں اگرچہ عملی طور پر خدا کے دین کو چھوڑ رکھا تھا، اس کے باوجود وہ اس کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے۔ مگر اس قسم کا فخر کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں ۔ ایسا فخر ہمیشہ جھوٹا فخر ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آدمی جس دین کو اپنے فخر کا سامان بنائے ہوئے ہوتا ہے اس کے لیے وہ قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ تاہم جب موت آئے گی تو ایسے لوگ جان لیں گے کہ دنیا میں وہ جس فخر پر جی رہے تھے وہ آخرت میں انہیں ذلت کے سوا اور کچھ دینے والا نہیں— دینِ الہٰی کا حامل صرف وہ انسان ہے جو شعور ی سطح پر دین کا حامل ہو۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page