Tazkirul Quran (Urdu) · The Day of Congregation (Al-Jumu‘ah)

Tazkirul Quran, Qur’an 62:9–11

The Day of Congregation (Al-Jumu‘ah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اصل یہ ہے کہ انسان اپنے خالق اور مالک کی یاد میں مشغول ہو، مگردنیا میں آدمی بیک وقت دو تقاضوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک، معاش کا تقاضا، اور دوسرا، دین کا تقاضا۔ ان میں سے ہر تقاضا ضروری ہے۔ البتہ ان کے درمیان اس طرح تقسیم ہونی چاہیے کہ معاشی سرگرمیاں دینی تقاضے کے ماتحت ہوں۔ آدمی کو اجازت ہے کہ وہ جائز حدود میں معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اس کو جو معاشی کامیابی حاصل ہو، اس کو وہ سراسر اللہ کا فضل سمجھے۔ نیز معاشی سرگرمی کے دوران برابر اللہ کو یاد کرتا رہے۔ اسی کے ساتھ اس کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے کہ جب بھی دین کے کسی تقاضے کے لیے پکارا جائے تو اس وقت وہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر دین کے کام کی طرف دوڑ پڑے۔

انسان اس حقیقت کو بھول کر تجارت اور لہو میں مشغول رہتا ہے، اور خدا کی یاد کو چھوڑ دیتا ہے۔ آج کے انسان کی دلچسپی صرف دو ہے— مفاد یا تفریح۔مدینہ میں ایک بار عین جمعہ کے خطبہ کے وقت کچھ لوگ اٹھ کر بازار چلے گئے۔ اس پر مذکورہ آیتیں اتریں ۔ اس حکم کا تعلق اگرچہ براہ راست طور پر جمعہ سےہے مگر بالواسطہ طور پر ہر دینی کام سے ہے۔ جب بھی کسی خاص دینی مقصد کے لیے لوگوں کو جمع کیا جائے تو امیر کی اجازت کے بغیر اُٹھ کر چلے جانا سخت محرومی کی بات ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page