Tazkirul Quran, Qur’an 65:6–7
Divorce (Al-Talaq)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
عائلی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہاں کہا گیا ہے کہ ’’اللہ سختی کے بعد جلد ہی آسانی پیدا کردے گا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں امکانات کی کوئی حد نہیں ، ہر بار جب امکان ختم ہوتا ہے تو وہیں زیادہ بڑا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی نقصان صرف نقصان نہیں ، یہاں ہر نقصان کے ساتھ ایک فائدہ کا پہلو لگا ہوا ہے۔یہ قدرت کا اٹل قانون ہے، اس میں کبھی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں ۔ آدمی کو چاہیے کہ جب ایک امکان کا سرا اس کے ہاتھ نکل جائے تو وہ کھوئی ہوئی چیز کا ماتم کرنے میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ نئے امکان کو دریافت کرکے اس کا استعمال شروع کردے۔ عین ممکن ہے کہ اس تدبیر کے ذریعہ وہ پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی اپنے لیے حاصل کرلے۔