Tazkirul Quran, Qur’an 66:8
Prohibition (Al-Tahrim)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا میں انسان کو آزمائشی حالات میں رکھا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس کی تلافی کے لیے توبہ، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ تو بہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ آدمی کو اگر واقعۃً اپنی غلطی کا احساس ہو تو وہ سخت شرمندہ ہوگا اور اس کی شرمندگی اس کو مجبور کرے گی کہ وہ آئندہ ایسا فعل نہ کرے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ شرمندگی ہی توبہ ہے (النَّدَمُ تَوْبَةٌ) مسند احمد، حدیث نمبر 3568۔ ایک صحابی نے کہا کہ سچی توبہ یہ ہے کہ آدمی رجوع کرے اور پھر اس فعل کو نہ دہرائے (يَتُوبُ ثُمَّ لَا يَعُودُ) الزھد لأبی داؤد، حدیث نمبر 134۔
توبہ وہ ہے جو سچی توبہ (توبۃ النصوح) ہو۔ محض الفاظ دہرادینے کا نام توبہ نہیں۔ حضرت علی نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی کسی غلطی کے بعد زبان سے توبہ توبہ کہہ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے(تَوْبَةُ الْكَذَّابِينَ) التذکرة بأحوال الموتى للقرطبی،صفحہ 215 ۔سچی توبہ آخرت کی روشنی ہے اور جھوٹی توبہ آخرت کا اندھیرا۔