Tazkirul Quran, Qur’an 67:1–4
The Kingdom (Al-Mulk)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خدا کی اسکیم کے مطابق، تخلیقِ انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں ۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس سلسلے میں چند آیتیں یہ ہیں
1۔ احسن باعتبار معرفت مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ(5:83)، 2۔ احسن باعتبار کلاموَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (16:125)، 3۔ احسن باعتبار اخلاق ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)، 4۔ احسن باعتبار ہمسائگیوَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)، 5۔ احسن باعتبار سلوکلَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا (56:25)، وغیرہ۔
اس قسم کی صفات جنت میں جاکر انسان کے اندر پیدا نہیں ہوں گے، بلکہ اسی دنیا میں انسان کو اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنا ہے۔ یعنی ان پہلوؤں کے اعتبار سے جو لوگ موجودہ دنیا کی زندگی میں احسن العمل ثابت ہوں، وہ اللہ کی نظر میں قابلِ انتخاب افراد ہیں ۔ فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایک ایسی دنیا میں جمع کیا جائے گا، جو ابدی ہوگی، اور جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے (3:133)۔
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔