Tazkirul Quran, Qur’an 68:1–7
The Pen (Al-Qalam)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد برتر اخلاق کا طریقہ ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اِسی روش کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ تم لوگ امعہ نہ بنو(لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً) یعنی یہ طرزِ عمل کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ اور اگر وہ ہمارے ساتھ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ کواس کے لیے آمادہ کرو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ براسلوک کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007) ۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔