Tazkirul Quran, Qur’an 69:13–18
The Inevitable Hour (Al-Haqqah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا میں آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے کہ اصل حقیقتیں اس سے اوجھل ہیں ۔ خدا اور آخرت یہاں مکمل طور پر غیب میں ہیں ۔ انسان نظر آتا ہے مگر خدا نظر نہیں آتا ۔کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے مطابق بنائی گئی ہے۔قیامت کے آتے ہی یہ حالت بدل جائے گی ۔ یہ امتحان کی مدت کےختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس وقت موجودہ دنیا توڑ کر نئی دنیا نئے تقاضوں کے مطابق قائم کی جائے گی۔ خدا کا جلال آج بالواسطہ طورپر ظاہر ہورہا ہے، اس وقت خدا اپنے تمام جلال کے ساتھ براہ راست طور پر ظاہر ہوجائے گا۔ جنت، دوزخ ، فرشتے، سب آنکھوں کے سامنے ہوں گے ۔ اس حقیقی عالم کی نسبت سے انسان کی جو اصل حیثیت ہے وہ پوری طرح کھل جائے گی ۔ دنیا میں آدمی اپنے حقیقی وجود کو ایک ظاہری پردہ میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے ۔ وہ بے زور ہوکر بھی زور آور دکھائی دیتا ہے۔ آخرت میں وہ اپنے اصلی اور حقیقی روپ میں بے پردہ ہو جائے گا۔ آدمی اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے جیساہے ویسا ہی وہ ظاہر کے اعتبار سے ہو جائےگا ۔ اس سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو رب العالمین اپنی رحمتوں میں لے لے ، جن کو وہ اپنی مغفرت میں ڈھانپ لے ۔