Tazkirul Quran, Qur’an 69:19–37
The Inevitable Hour (Al-Haqqah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان موجودہ دنیا میں پیدائش کی بنیاد پر داخل ہوتا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا، ماں کے پیٹ سے نکل کر موجودہ دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے اس دنیا میں پہلا داخلہ ہے۔ یہ داخلہ ہر انسان کو محض پیدائش کی بنیاد پر مل جاتا ہے۔ مگر یہ داخلہ عارضی داخلہ ہے۔ موت کے بعد انسان دوبارہ خدا کی ابدی نعمتوں والی دنیا میں داخل ہوگا۔یہ داخلہ مستقل ہوگا۔ پہلا داخلہ ہرانسان کو پیدائش کی بنیاد پر اپنے آپ مل جاتا ہے۔ لیکن دوسرے داخلے کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ دوسرا داخلہ کسی انسان کو صرف استحقاق (merit) کی بنیاد پر ملے گا۔ پہلے دور حیات کی حیثیت یہ ہےکہ وہ استحقاق ثابت کرنے کا دور ہے۔ پہلے دورِ حیات میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ خدا کےابدی انعام کا واقعی حقدار ہے۔ خدا کی دنیا میں پہلے داخلہ کے ساتھ مصیبت شامل تھی (البلد،90:4)۔اس کے برعکس، یہ دوسرا داخلہ نیک عمل کرنے والوں کے لیے تمام تر ھنیئًا (pleasure) کا داخلہ ہوگا۔پہلا داخلہ امتحان کے لیے تھا، اور دوسرا داخلہ امتحان کی بنیاد پر انعام حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے کیے پر مگن ہے ہر آدمی اپنے کام کو سونا (gold)سمجھتا ہے، ان پر وہ فخرکرتاہے ۔ مگر کوئی سونا اسی وقت سونا ہے جب کہ وہ سنار کی کسوٹی پر بھی سونا ثابت ہو۔ آخرت میں خدا ہر آدمی کے عمل کو اپنی کسوٹی پر جانچے گا۔ جس کا عمل وہاں کی جانچ میں درست ثابت ہو اسی کا عمل خدا کی نظر میں قیمتی ہے۔ اس کے برعکس، جس انسان کا عمل خدا کے معیار کے مطابق نہیں ہوگا وہ قیامت کے دن کائناتی کوڑاخانے میں ڈال دیا جائے گا۔ آخرت کی دنیا میں کامیابی اس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں خدا سے ڈر کر زندگی گزارے۔ اور جو شخص موجودہ دنیا میں نڈر ہو کر رہے اور بندوں کے مقابلہ میں سرکشی کرے وہ آخرت میں سخت ترین عذاب میں پھنس کر رہ جائے گا۔