Tazkirul Quran, Qur’an 69:38–52
The Inevitable Hour (Al-Haqqah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن براہ راست اللہ کا کلام ہے۔ قرآن انسانی فطرت کی تلاش کا جواب ہے۔ بہت سے انسانوں نے اس میں اپنی تلاشِ فطرت کا جواب پایا ہے۔ سر آرتھر کیتھ (Arthur Keith, 1866-1955) نے اپنی کتاب میں قدیم مصر کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی دور میں مصریوں کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ اس کو مسلمانوں کے قرآن نے فتح کیا
The Egyptians were conquered not by the sword but by the Koran. (A New Theory of Human Evolution, p. 303, ed. 1950)
کسی قوم کے اندر اتنی سنجیدہ تبدیلی شاعری یا کہانت وغیرہ سے پیدا نہیں ہوسکتی، یہ تبدیلی صرف اسی کلام سے پیدا ہوسکتی ہے، جوانسانی فطرت کو ایڈریس کرے، اور اس کے فطری تلاش کا جواب ہو۔ یہ کلام صرف اس خدا کا نازل کردہ کلام ہوسکتا ہے جوانسانی فطرت کو پیدا کرنے والی ذات ہے، کوئی دوسرا کلام نہیں ۔
جو کچھ تم دیکھتے ہو اور جو کچھ تم نہیں دیکھتے سب اس کلام کی صداقت پر گواہ ہے— اس کا مطلب یہ ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت جو معلومات انسان کی دسترس میں آچکی تھیں اور جو بعد کے زمانہ میں اس کی دسترس میں آنے والی تھیں ، دونوں اس کلام کی حقانیت ثابت کرنے والی ہیں ۔ اس کلام کے برحق ہونے کی تردید نہ حال کا علم کر رہا ہے اور نہ مستقبل کا علم اس کی تردید کرسکے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ ا س کو نہ مانیں وہ اپنے بارے میں صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ۔