Tazkirul Quran, Qur’an 7:165–166
The Heights (Al-A‘raf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے لیے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔
قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قیل بل جعل أخلاقہم کأخلاقہا وإن لم تکن صورتہم کصورتہا (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666)۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ443)۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے لیے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو کر ڈالتا ہے۔ اس کو نہ اپنی خواہش کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔
اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے لیے کہے۔
برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس لیے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا لیے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔