Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:167–168

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

ان آیات میں یہود کے لیے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔

کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچہ آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات دیے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے لیے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔

ان آیات میں یہود کے لیے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو کدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں دیے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔

دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page