Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:50–51

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتاہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کوغیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض کھیل تماشا ہو۔

ایسے آدمی کے لیے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھرآخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیوں کر اپنی خوراک پاسکتی ہے۔ جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے لیے آخرت کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

دوسراا نسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جیے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے لیے آخرت رزق کا دسترخوان بنے گی۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے لیے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس لیے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔

خدا کی دنیا میں آدمی خداکو کیوں بھلا دیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کوچھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔

اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو غیر اہم سمجھنا اوراس کے ساتھ غیرسنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کردے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page