Tazkirul Quran (Urdu) · The Heights (Al-A‘raf)

Tazkirul Quran, Qur’an 7:52–53

The Heights (Al-A‘raf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے لیے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانک دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سہارا ہوچکا ہے۔ وہ جن مسائل کو اہم سمجھ کر ان میں الجھا ہوا تھااس دن وہ بالکل بے حقیقت نظر آئیں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہ

آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس لیے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔

جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page