Tazkirul Quran (Urdu) · Noah (Nuh)

Tazkirul Quran, Qur’an 71:5–20

Noah (Nuh)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں ۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔

حضرت نوح نے اپنی قوم کی گمراہیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلائی ،پھر کہاکہ تم لوگوں کو کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کے معتقد نہیں ہو۔ یعنی تم اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے، اللہ کی عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں ۔مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا (تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے لیے عظمت کے متوقع نہیں ہو)کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد 23، صفحہ296)۔ یعنی اللہ کی عظمت اس طرح نہیں مانتے جس طرح اس کی عظمت ماننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک انسان خدا کا منکر نہیں ہوتا ۔حضرت نوح کی قوم اللہ کو مانتی تھی، مگر تعظیم و توقیر ، حب شدید اور خوف شدید کا جو درجہ اللہ کو دینا چاہیے، وہ درجہ انھوں نے اپنے قومی اکابر کو دے رکھا تھا جن کا نام آگے آیت نمبر 23 میں ذکر کیا گیا ہے۔ مشرک انسان کی گمراہی یہ ہے کہ خدا کے لیے اس کے پاس صرف لفظی اظہار ہوتا ہے، اور دوسری ہستیوں کے لیے قلبی کیفیات۔ حضرت نوح کی قوم اللہ کا اقرار کرتی تھی، مگر اس پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح کسی انسان پر چھایا ہوا ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خدا پرستی کا اصل معیار ہے۔ جو شخص خدا کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے۔ اور جس کا دل خدا کی عظمت کے احساس میں ڈوبا ہوا نہ ہو، وہ خدا پرست نہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page