Tazkirul Quran, Qur’an 71:1–4
Noah (Nuh)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں ۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
’’اے میری قوم کے لوگو!‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر وں کا نظریہ دوقومی نظریہ نہ تھا ، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ یعنی جو قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی وہی قومیت پیغمبر کی تھی۔ تمام پیغمبر مدعو کو اپنی قوم سمجھتے تھے۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا۔