Tazkirul Quran (Urdu) · The Jinn (Al-Jinn)

Tazkirul Quran, Qur’an 72:16–23

The Jinn (Al-Jinn)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں ۔ ایک انسان وہ ہے جو حق کا متلاشی رہا، اور جب حق اس کے سامنے آیا تو اس نے فوراًقبول کرلیا۔ اس کو خدا نے بڑائی دی تو اس نے تواضع کی صورت میں اس کو پیش کیا۔ اس کا احتساب کیا گیا تو اس نے عجز کی نفسیات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے اپنے مال کو خدا کے راستہ میں استعمال کیا۔ اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لیے انصاف اور خیرخواہی کا پیکر بن گیا ، وغیرہ۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ اس نے اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کی ۔ ایسے ہی انسانوں کے لیے جنت کی ابدی زندگی ہے۔

دوسرا انسان وہ ہے جس کی شخصیت منفی اعمال کا نتیجہ ہے۔ اس کو جب موقع ملاتو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈا بلند کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس کو اس نے اپنی نمود ونمائش میں خرچ کیا۔ اس نے کسی کے اوپرغلبہ پایا تو اس کی بربادی کے منصوبے بنائے ، وغیرہ۔ ایسا آدمی گویا اپنے اندر شیطان کی انڈسٹری قائم کیے ہوئے ہے ۔ موت کے بعد اس کی یہ پیداوار اسے گھیرے گی ۔ وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہوا پائے گا۔

موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔سائنس دانوں کی زندگیوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں سائنس کے نام پر کچھ لوگوں نے خدا کا انکار کیا۔ مگر بڑے بڑے سائنس دانوں میں تقریباً تمام سائنس داں کسی نہ کسی طور پر خدا کے وجود کا اقرار کرتے تھے ۔ مثلاً جرمن سائنس داں ، پروفیسر کارل ٹرال (Carl Troll 1899-1975) نے کہا — میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں

‘‘The fruit of my life as a scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator.’’

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page