Tazkirul Quran, Qur’an 72:8–15
The Jinn (Al-Jinn)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ کتابِ ہدایت ہے ۔ قرآن حقائقِ فطرت کا اعلان ہے۔ قرآن کے ذریعہ آدمی سچائی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے ۔ ہمارے پاس آنکھ ہے ۔ مگر جب تک کوئی روشنی اندھیرے کو نہ ہٹائے ہم باہر کی چیزوں کو دیکھ نہیں سکتے۔ قرآن یہی روشنی ہے۔ وہ انسان کو بصیرت کی نعمت عطا کرتا ہے ۔قرآن سننے والے جنوں نے قرآن کو سن کر نہ صرف فوراً اسے مان لیا بلکہ اسی کے ساتھ وہ اس کے مبلغ بن گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا کلام جب زندہ لوگوں کے کانوں تک پہنچتا ہے تو وہ بیک وقت دو قسم کے اثرات پیدا کرتا ہے— اس کی سچائی کا کھلے دل سے اعتراف، اور اس کی تبلیغ عام۔
قدیم عرب میں بہت سے لوگ تھے جن کو حنفاء کہا جاتا تھا۔ حنفاء کہا جاتا تھا، یعنی سچائی کے متلاشی۔آج کل کی زبان میں وہ سچائی کے متلاشی تھے ۔ ان کی اندرونی طلب ایک چیز کو چاہتی تھی مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ مگر جب قرآن اترا اور انھوں نے اس کو پڑھا تو قرآن کی باتیں ان کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوئیں ۔ انھوں نے بڑھ کر اس کو قبول کر لیا۔ قرآن ان کے ذہن کے لیے اطمینان اور ان کے دل کے لیے تسکین کا ذریعہ بن گیا۔ٹھیک اسی طرح آج بھی بے شمار لوگ ہیں جو حق کے متلاشی ہیں ۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ حق کیا ہے اور کہاں ہے ۔ ان میں سے کسی شخص کو جب قرآن پڑھنے کو ملتا ہے تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ قرآن ہی وہ ہدایت نامہ ہے جس کی تلاش اس کی روح کر رہی تھی ۔ وہ آگے بڑھ کر قرآن کے دین کو اختیار کر لیتا ہے ۔ وہ قرآن کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے ۔