Tazkirul Quran, Qur’an 73:20
The Wrapped One (Al-Muzzammil)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تیسیر کے لفظی معنی ہیں ، آسان کرنا۔ یہاں تیسیر کا لفظ ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے تہجد کی قرأت کے لیے ہے۔ مگر اپنے توسیعی مفہوم کے لحاظ سے اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ یعنی زندگی کے ہر معاملہ میں آسان اور قابلِ عمل طریقہ اختیار کرنا ۔
دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں ۔ مگر یہ فرائض صرف لازمی حدود کو بتاتے ہیں ۔ اس لازمی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں ۔ مگر وہ نوافل ہیں ۔ مثلاً پنج وقتہ نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق، وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے،اگر چہ وہ تھوڑا ہو(أحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى الله أدومہا وَإِنْ قَلَّ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6099۔