Tazkirul Quran, Qur’an 74:1–7
Wrapped in his Cloak (Al-Muddaththir)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اس دنیا میں اصل پیغمبرانہ کام انذار ہے۔ یعنی آخرت میں پیش آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا دل اللہ کی بڑائی سے لبریز ہو۔ جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔ جو ہر قسم کی برائی سے دور ہو۔ جو بدلہ کی امید کے بغیر نیکی کرے۔ جو دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں پر یک طرفہ صبر کرسکے۔
ان آیات کی روشنی میں یہ اصول ملتا ہے کہ حالات کے لحاظ سے صرف انہی احکام پر عمل کرو جو ممکن ہیں ۔یعنی جو کام نتیجہ رخی ہو، اس کی طرف توجہ دو ۔ بقیہ معاملات کومستقبل کے لیے چھوڑ دو۔یہ گویا پانچ نکاتی پر وگرام تھا جو ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ اگر چہ اس وقت مکہ میں اس کے سوابہت سے مسائل تھے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ، اس وقت جن کاموں کے لیے نتیجہ خیز جدوجہد ممکن ہے، ان پر محنت کرو، اور جن کاموں میں بروقت نتیجہ خیز عمل ممکن نہیں ہے ان سب کو انتظار کے خانہ میں ڈال دو۔ یہ اصول فرد (individual) کے لیے بھی ہے، اور اجتماع (society)کے لیے بھی۔
انذار سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ تکبیر رب یہ ہے کہ آدمی کا دل اور دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنادے، یعنی متواضع انسان۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہوجائے ۔اور دعوت کی شکل میں وہ اپنی اس دریافت کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے والا بن جائے۔ اسی کے ساتھ یہاں دعوت کا طریقہ (method) بھی بتادیا گیا ہے۔ وہ طریقہ ہے رُجز کے معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت کا کام کرنا ۔ رُجز کا لفظی مطلب گندگی ہے۔پیغمبر اسلام حنفاء میں سے تھے، انھوں نے اس پوری مدت میں کوئی غیر اخلاقی کام نہیں کیا،کبھی کسی قسم کی گندگی کے فعل یا بُری عادت میں مبتلا نہیں ہوئے۔ پھر گندگی چھوڑنے کا مطلب کیا ہے۔ یہاں رُجز اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ ایسے فعل سے اعراض کرو، جو باعتبارِ نتیجہ رجز تک پہنچنے والا ہو۔ امام رازی نے اس آیت کی تفسیران الفاظ میں کی ہے کُلَّ مَا یُؤَدِّی إِلَى الرُّجْزِ فَاہْجُرْہُ (تفسیر الرازی، جلد30، صفحہ 699)۔ یعنی ہر وہ چیز جو رجز تک پہنچانے والی ہو، اس کو چھوڑ دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں رُجز کا لفظ باعتبار نتیجہ (in terms of result) ہے۔ یعنی جو چیز بظاہر غلط نہ ہو، لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ غلط انجام تک پہنچانے والی ہو، ا س کو چھوڑ دو۔اسی طرح یہ بھی کہ رکاوٹ والی چیزوں سے نہ الجھتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو۔ یعنی مسائل اور مواقع کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کرو، اورمسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرو۔