Tazkirul Quran (Urdu) · Wrapped in his Cloak (Al-Muddaththir)

Tazkirul Quran, Qur’an 74:32–48

Wrapped in his Cloak (Al-Muddaththir)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اس دنیا میں گردش کا نظام ہے۔ زمین پر ہر روز ایسا ہوتا ہے کہ یہاں رات آتی ہے اور زمین گہری تاریکی میں ڈوب جاتی ہے ۔ اس کے بعد دن نکلتا ہے اور ہر چیز دوبارہ سورج کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اسی کی وجہ سے چاند کی تاریخیں بدلتی ہیں اور زمین پر باری باری رات اور دن آتے ہیں ۔ یہ گردش اور تبدیلی کا نظام گویا ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح موجودہ دور بدل کر آخرت کا دور آئے گا۔ جو لوگ اس نظام پر غور کریں ، وہ چاہیں گے کہ ’’رات‘‘ کے آنے سے پہلے اپنے ’’دن‘‘ کو استعمال کرلیں ۔ وہ جہنم والے اعمال سے بھاگیں گے اور جنت والے اعمال کو اختیار کریں گے۔

موجودہ دنیا میں آدمی کی اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے ، آخرت میں ہر آدمی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی ۔ آج ہماری زندگی ’’رات‘‘ کے دور سے گزر رہی ہے ، موت کے بعد ہم ’’دن‘‘ کے دور میں پہنچ جائیں گے۔آج آدمی ایک قسم کے پردہ میں ہے ۔ وہ دلیل پر قائم نہ ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کو اپنے بارے میں غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے۔مگر جب آخرت کا سورج طلوع ہو گا تو وہ تاریکی کے ان تمام پردوں کو پھاڑ دے گا۔ اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔

’’ہر انسان اپنے کیے میں پھنسا ہوا ہے‘‘ سورہ الانعام میں ہے لوگ خوداپنے کیے کے حوالے کر دے جائیں گے (6:70)۔ سورہ الزمر میں ہے قیامت میں لوگوں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم کماتے تھے(39:24)۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ یہ تمھارا اپنا کیا ہے جو تمھاری طرف لوٹایا جائے گا (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ ‌تُرَدُّ ‌إِلَيْكُمْ) حلیۃ الاولیاء، جلد 5، صفحہ 125 ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ایک انڈسٹری (کارخانہ ) ہے ۔ انڈسٹری کیا ہے ۔ انڈسٹری وہ نظام ہے جس کے اندر خام مال ڈالا جائے اور پھر وہ تیار شدہ سامان کی صورت میں بر آمد ہو۔مومن ربانی اعمال کی انڈسٹری ہے اور غیرمومن شیطان کی انڈسٹری ۔ ہرآدمی جو کچھ ہے اس کے مطابق وہ اپنی پیداوار کا ڈھیر لگارہا ہے۔ دنیا میں جو انسان کانٹوں کی فصل اگاتا ہے وہ اپنے آپ کو کانٹوں میں پھنسا ہوا پائے گا ۔ اس کے برعکس، جو انسان ربانی عمل کی فصل اگاتا ہے وہ جنت کےباغوں میں ابدی زندگی کا مستحق ٹھہرے گا۔

کون لوگ جہنم میں جائیں گے۔ آیات (42-46)میں چار چیزوں کو جہنم میں جانے کا سبب بتایا گیا ہے  نمازی نہ ہونا، محتاجوں کا سہارا نہ بننا، حق کی دعوت کے خلاف فضول بحثیں نکالنا ، روز جزا کو نہ ماننا ۔ اس کا برعکس انجام ان لوگوں کا ہوگا جنھوں نے اپنی زندگیوں میں نماز کو داخل کیا ہو، کم زورا در بے سہارا لوگ جن کے دلوں میں اپنے لیے نرم گوشہ پاتے ہوں ، جن کا سینہ حق کی آواز کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہو۔ جویہ سمجھ کر دنیا میں زندگی گزارتے ہوں کہ ایک روزان کو عالم الغیب کے سامنے حاضر ہونا ہے ۔ایسے لوگوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔ وہ خدا کے باغوں میں ہمیشہ کے لیے داخل کر دے جائیں گے ۔

نماز کیا ہے۔ اللہ کے آگے جھک جانا، اللہ کو اپنا سب کچھ بنالینا ۔جب آدمی اس طرح اپنے رب کو پالیتا ہے تواس کی پوری زندگی اور اس کے تمام معاملات میں اللہ کا رنگ اس طرح چھا جاتا ہے کہ کسی وقت اس سے جدا نہیں ہوتا ۔اسی کا ایک انتہائی ظاہرہ نماز ہے۔

’’محتاج کو کھانا کھلانا‘‘ اس تعلق کی ایک علامت ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسانوں سے ہونی چاہیے۔بندۂ مومن بے تابانہ طور پر چا ہتا ہے کہ اس کا خدا اس کا سہارا بنے۔ اس لیے اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ اس سے مختلف سلوک کرے جو وہ اپنے رب سے اپنے لیے چاہتا ہے ۔

دعوتِ حق کا ظہور در اصل خدا کا ظہور ہے ۔اس کے خلاف ایسی بحثیں نکالنا جس سے لوگ حق کے بارے میں شبہ میں پڑجائیں ،اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے ۔ جن لوگوں نے حق کی دعوت کے خلاف بحث و تکرار کی، انھوں نے گو یا خدا کے ساتھ زبان درازی کی جرات کی ۔ ایسے لوگوں پر خدا سخت غضب ناک ہوتا ہے ۔ وہ خدا کی رحمتوں سے سب سے زیادہ دور کر دیے جاتے ہیں ۔ روزِ جزا کا یقین تمام نیکیوں کا سب سے بڑا محرک ہے۔ اور روز جزا پر یقین نہ ہونا تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے ۔ جنت اس کے لیے ہے جو دنیا میں اس طرح رہے گویا کہ وہ آخرت کو دیکھ رہا ہے اور جہنم اس کے لیے ہےجو دنیا میں اس طرح زندگی گزار ے گویا کہ آخرت کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page