Tazkirul Quran, Qur’an 74:49–56
Wrapped in his Cloak (Al-Muddaththir)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
نصیحت خواہ کتنی ہی مدلل ہو، سننے والے کے لیے وہ اسی وقت موثر بنتی ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر سننے والا سنجیدہ نہ ہو تو نصیحت اس کے دل میں نہیں اترے گی، جو دلیل ایک سنجیدہ انسان کو تڑپادیتی ہے وہ صرف اس کی لایعنی بحثوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔
اللہ اپنے دین کی پیغام بری کے لیے ہمیشہ ایسے شخص کو چنتا ہے جس کے جاننے والے اس کو ایک پسندیدہ شخص کی حیثیت سے جانتے ہوں۔ جس کی صلاحیت اور صالحیت کی وجہ سے اس کی قوم کے لوگوں نے اس کے بارے میں اونچی اونچی امیدیں باندھ رکھی ہوں (ہود، 11:62)۔ مگر جب وہ حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اچانک لوگ اس سے بدک جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے، اور بے آمیز حق انسان کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض چیز رہا ہے۔ پیغمبر کی بے آمیز دعوت ان تمام لوگوں کو متوحش کر دیتی ہے جو ملاوٹی دین یا خود ساختہ مذہب کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کیے ہوئے تھے ۔
انسان کی گمراہی کبھی یہ نہیں رہی ہے کہ وہ ناحق کا علم بردار بن کر کھڑا ہوا ہو۔ انسان کی گمراہی یہ ہے کہ وہ حق کے ساتھ ناحق کو ملائے ہوئے ہو۔ وہ حق کا نام لے مگر اسی کے ساتھ اپنی عقیدتوں اور وفاداریوں کو اس نے ناحق کے لیے خاص کر رکھا ہو۔ پیغمبرکی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر ایک کو اس میں اپنا حقیقی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ کسی کو اپنی شخصیت کا بت گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے دلائل کا غبارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے ۔کسی کو اپنی شان وشوکت بے رونق ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو ایسا لگتا ہے کہ اگر اس نے اس حق کو مان لیا تو اس کو اپنے بنے بنائے ڈھانچہ کو اجاڑ دینا پڑے گا ، وغیرہ۔
کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بظاہر دعوت کو پسند کرتے ہیں ۔ مگر ان کا کیس کنڈیشننگ کا ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ داعی کے اعلی اسلوب اور اس کے پیغام کی عمومی کشش کی وجہ سے اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں ۔ مگر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجاتا ہے جب کہ وہ کسی چیز کو اپنے مزاج کے خلاف پاکر حق کی دعوت سے دور ہوجاتے ہیں ۔ یہ وہ چند اسباب ہیں ، جن کی بنا پر لوگ داعیٔ حق کی آواز سے اس طرح بدک جاتے ہیں جیسے کوئی زندہ شیر اچانک سامنے کھڑا ہو جائے تو لوگ اس کے وجودکو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں ۔
اللہ نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے ۔ اس لیے حق کو یہاں ریاضیات (mathematics) کی مانند قطعی استدلال یا ناقابلِ انکار انداز میں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ریاضیات میں دو اور دومل کر یقینی طور پر چار ہوجاتے ہیں ۔ مگر حالتِ امتحان کی وجہ سے موجودہ دنیا میں حق پر شبہ کا پردہ ڈال دیا گیا ، اس لیے حق سےصرف وہی لوگ نصیحت حاصل کرپاتے ہیں ، جو ڈی کنڈیشنڈ ذہن(de-conditioned mind) کے حامل ہوں۔