Tazkirul Quran, Qur’an 75:1–15
The Day of Resurrection (Al-Qiyamah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان کے اندر پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ برائی اور بھلائی میں تمیز کرے۔ وہ عین اپنی فطرت کے تحت یہ چاہتا ہے کہ برائی کرنے والے کو سزا ملے اور بھلائی کرنے والے کو انعام دیا جائے۔ یہی وہ شعور ہے جس کو قرآن میں نفس لوامہ کہا گیا ہے۔ یہ نفس لوامہ عالم آخرت کے حقیقی ہونے کی ایک نفسیاتی شہادت ہے۔ اس داخلی شہادت کے بعد جو شخص اس کے تقاضے پورے نہ کرے، وہ گویا اپنی ہی مانی ہوئی بات کا انکار کر رہا ہے۔
نفس لوامہ وہی چیز ہے جس کو آج کی زبان میں ضمیر کہا جاتا ہے ۔ یہ صلاحیت آدمی کے اندر آزادانہ طور پر کام کرتی ہے ۔ وہ اس کی عقل اور اس کی خواہش دونوں سے غیر متاثررہ کر بار بار اس کو یہ بتاتی ہے کہ کیا صحیح ہے او رکیا غلط، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو آواز دیتی ہے۔ لیکن یہ رہنمائی خاموش زبان (unspoken language)میں ہوتی ہے۔یہ ضمیر گویا خدا کی عدالت ہے۔ یہ فطری الارم اپنے صحیح وقت پر بجتا ہے، اور انسان یقینی طور پر اس کو سنتا ہے۔ وہ پیشگی طور پر انسان کو اس کی غلطیوں سے خبردار کرتا ہے۔ وہ بار بار اس کو بتاتا ہے کہ اس کے لیے درست رویہ کیا ہے اور غلط رویہ کیا ہے۔ اس کے باوجود انسان خدا سے غافل ہوجاتا ہے۔ وہ اس طرح زندگی گزارتا ہے جیسے کہ قیامت کا دن آنے والا نہیں ہے جب کہ اس سے اس کے قول وعمل کا حساب لیا جائے گا۔
جوآدمی اس قسم کا رویہ اختیار کرے وہ گویا خود اپنی فطرت کاانکار کررہا ہے۔ خود اس کا اندرکا ضمیر اس کو آواز دیتا ہے مگر وہ اس کو سننے کے لیے تیا رنہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کاضمیر پیشگی طو رپر اس کے حق میں خدائی فیصلہ کا اعلان ہے۔ آدمی اگر اس آواز پر کان لگائے تو وہ موت سے پہلے ہی یہ جان لے گا کہ موت کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو نے والا ہے۔