Tazkirul Quran, Qur’an 79:15–26
The Pluckers (Al-Nazi‘at)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حقیقتِ واقعہ کا اعتراف سب سے بڑا قول ہے، اور حقیقتِ واقعہ سے مطابقت سب سے بڑا عمل۔ فرضی الفاظ بول کر حقیقی کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا جھوٹی ہوشیاری ہے ۔ بناوٹی بات حقیقتِ واقعہ کا بدل نہیں بن سکتی، خواہ اس کو کتنا ہی زیادہ خوبصورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ حقیقتِ واقعہ کا طوفان فرضی الفاظ کو اس طرح بہا لے جاتا ہے جس طرح کوئی آندھی تنکوں کے ڈھیر کو۔ فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازماً اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں ۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔