Tazkirul Quran, Qur’an 80:1–16
He Frowned (‘Abasa)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل خوراک کی ضرورت ہے۔ اس خوراک کا انتظام ہماری زمین پر نہایت وسیع پیمانہ پر کیا گیا ہے،جب کہ اس انتظام میں ہمارا کو ئی دخل نہیں ۔ اس خوراک کا ایک انتظام وہ ہے جو ہمارے لیے زرعی پیداوار کی صورت میں کیا گیا ہے، زمین پر پانی کا انتظام اور پانی کے ذریعہ طرح طرح کے غلے اور میوے کاپیداہونا۔ اس زرعی پیداوار کی حیثیت ہمارے لیے براہ راست خوراک کی ہے۔ دوسری خوراک وہ ہے جس کو بالواسطہ طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ یعنی حیوانات کازمینی پیداوار کو کھا کر اس کوگوشت کی صورت میں تبدیل کرنا۔
اس نعمت کاتقاضا ہے کہ انسان دنیا میں خدا پر ست بن کررہے۔ یہ خدا پر ستی جوانسان سے مطلوب ہے اس کامحرک اصلاً شکرہے ۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہو گا ۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کاظہور ہوتا ہے اسی کانام خداپرستی ہے— آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔