Tazkirul Quran (Urdu) · Folding Up (Al-Takwir)

Tazkirul Quran, Qur’an 81:1–14

Folding Up (Al-Takwir)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن میں جگہ جگہ قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے۔ قیامت جب آئے گی تو دنیا کا موجودہ توازن ٹوٹ جائے گا۔ اس دن تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع ہوں گے کہ ایک مالک کائنات کے سوا سب آوازیں پست ہوں گی۔ اس دن زبان والے بے زبان ہو جائیں گے ۔اس وقت انسان اپنے آپ کو بالکل بے بس محسوس کرے گا۔ اس دن نیکی کے سوا دوسری تمام چیزیں اپنا وزن کھو دیں گی۔ مظلوم کو مکمل حق ہوگا کہ وہ ظالم سے اپنے ظلم کا بدلہ لے لے۔قدیم زمانہ میں بعض عرب قبائل لڑکے کو اپنے لیے عزت اور طاقت کا نشان سمجھتے تھے اور اگر لڑکی پیدا ہوجائے تو اس کو اپنے لیے شرمندگی کا سبب خیال کرتے تھے ۔ یہ احساس کبھی اتنا شدید ہوتا کہ اپنی لڑکی کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کر دیتے ۔ یہ قدیم دور کا فیمیل فیوٹی سائڈ (female foeticide)تھا۔ دور جدید میں بھی رحم مادر میں ہی بچیوں کے قتل سلسلہ جاری ہے۔ یہ گویا انسانی ظلم کی ایک نمائندہ مثال ہے۔اس آیت کا اولین مصداق قدیم زمانہ کے عربوں کا یہی رواج ہے، تاہم توسیعی طور پر اس حکم میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات بھی شامل ہوں گے ۔ اس قسم کے تمام لوگ گویا اپنے آپ کو اسی مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں جہاں عرب کا وہ قدیم انسان کھڑا ہوا ہے، جس نے اپنی بے گناہ بیٹی کو گڑھے میں دھکیل کر اوپر سے مٹی ڈال دی تھی ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page