Tazkirul Quran (Urdu) · Folding Up (Al-Takwir)

Tazkirul Quran, Qur’an 81:15–29

Folding Up (Al-Takwir)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔مگر معنوی طورپر اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے، جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتا ہے۔اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گابلا شبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ کائنات انتہائی وسیع ہونے کے باوجود انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی طور پر غیر موافق ہے۔ ساری معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں لائف سپورٹ سسٹم کی بنا پر انسان زندہ رہتا ہے اورتمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ بے حد وسیع کائنات میں زمین کا استثناء واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ خالق نے بالا رادہ زمین پر استثنائی حالات پیدا کیے ہیں ۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کا استثنائی نظام اور اس کی محوری گردش اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔

زمین کااستثنائی نظام اور اس کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجیے کہ زمین اپنے استثنائی لائف سپورٹ سسٹم کے ساتھ محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا کہ گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page