Tazkirul Quran, Qur’an 89:15–26
The Dawn (Al-Fajr)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
دنیا میں آدمی کو دو قسم کے احوال پیش آتے ہیں ، کبھی پانا اور کبھی محروم ہوجانا۔ دنیا میں زیادہ ملنا نہ تو عزت افزائی ہے، اور نہ کم ملنا اہانت۔دوسرے الفاظ میں ، دنیوی ترقی تعظیم و تکریم نہیں ہے۔ یہ دونوں حالتیں ابتلا (امتحان) کے لیے ہیں ۔اس لیے اقتصادی تنگی کو اہانت سمجھنا بھی غلط ہے، اور اقتصادی خوش حالی کو اکرام سمجھنا بھی غلط ہے۔ وہ اس جانچ کے لیے ہیں کہ آدمی کسی حالت میں کون سا رد عمل پیش کرتا ہے۔ جس شخص کا معاملہ یہ ہو کہ جب اس کو کچھ ملے تو وہ فخر کرنے لگے اور جب اس سے چھینا جائے تو وہ منفی نفسیات میں مبتلا ہوجائے، ایسا شخص امتحان میں ناکام ہوگیا۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے کہ جب اس کو ملا تو اس نے خدا کے سامنے جھک کر اس کا شکر ادا کیا، اور جب اس سے چھینا گیا تو دوبارہ اس نے خدا کے آگے جھک کر اپنے عجز کا اقرار کیا۔ یہی دوسرا انسان ہے جس کو آگے کی آیت (نمبر 27) میں نفسِ مطمئنہ کہا گیا ہے، یعنی مطمئن روح۔ بائبل میں ہے کہ جب حضرت ایوب نے اپنی مصیبت کی خبر سنی تو انھوں نے کہا’’خُداوند نے دِیا اور خُداوند نے لے لِیا۔ خُداوند کا نام مُبارک ہو۔‘‘اِن سب باتوں میں ایُّوب نے نہ تو گُناہ کِیا اور نہ خُدا پر بیجا کام کا عَیب لگایا (ایوب، 1:21-22)۔
دوبارہ جب مصیبت آئی تو انھوں نے کہا ’’جب خداوند اچھی چیز دیتا ہے ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔اسی طرح سے تمہیں تکلیفوں کو بھی بنا شکایت کے ضرور برداشت کرنا چا ہیے۔‘‘ ان ساری باتوں کے باوجود بھی ایوب نے گناہ نہیں کیا۔ وہ خدا کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے (ایوب، 2:10) ۔ دنیا میں آدمی کو مال کی صورت میں یاکسی اور صورت میں جو چیزیں ملتی ہیں وہ سب اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہیں ۔ وہ بذات خود مطلوب نہیں ہیں بلکہ ایک اور مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔ وہ مقصد یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ آئندہ آنے والی ابدی زندگی میں اس کی نجات کا ذریعہ بن سکیں۔