Tazkirul Quran (Urdu) · The Dawn (Al-Fajr)

Tazkirul Quran, Qur’an 89:27–30

The Dawn (Al-Fajr)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

نفس مطمئنہ کا مطلب غم سے پاک دل نہیں ہے بلکہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک روح (complex-free soul)ہے۔ اسی حقیقت کو سورہ الشعراء (آیت 89) اور سورہ الصافات (آیت 84)میں قلبِ سلیم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی جو شخص دنیا میں اپنی فطرت کو آلائش (conditioning) سے بچائے اور صحیح فطرت کے ساتھ آخرت میں پہنچے۔ مومن کی زندگی دنیا میں کبھی غم سے خالی نہیں ہوتی۔ غم سے خالی زندگی کا مقام جنت ہے (فاطر، 35:34)۔انسان سے دنیا کی زندگی میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ دنیا میں وہ دنیا کے غم کو لے کر نہ جئے بلکہ آخرت کے غم کولے کر جئے ۔ حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ایک شخص کو دعا سکھائی اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا ‌بِكَ ‌مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر7490)۔اے اللہ تجھ سے ایسا نفس مانگتاہوں جو تیرے اوپرمطمئن ہو، تجھ سے ملاقات کا یقین رکھتا ہو، تیرے فیصلہ پر راضی ہو۔ تیرے دیے ہوئے پر قانع ہو۔ نفس مطمئنہ کا مقام اس شخص کو ملتا ہے جو کائنات میں خدا کی نشانیوں پر غور کرے۔ جو تاریخ کے واقعات سے عبرت و نصیحت کی غذا لے سکے۔ جو اس بات کا ثبوت دے کہ جب اس کی ذات میں اور حق میں ٹکراؤ ہوگا تو وہ اپنی ذات کو نظر انداز کردے گا اور حق کو قبول کرلے گا۔ جو ایک بار حق کو مان لینے کے بعد پھر اس کو کبھی نہ چھوڑے، خواہ اس کی خاطر اسے اپنے آپ کو کچلنا پڑے، اور خواہ اس کے نتیجہ میں اس کی زندگی ویران ہوجائے۔

جنت کے معاشرے میں وہ خوش قسمت افراد جگہ پائیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے بچایا، جس نے اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت انسان کی تعمیر کی ، جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ انٹیگریٹیڈ پرسنالٹی (integrated personality) کا حامل انسان ہے— یہی وہ صفات ہیں جن سے متصف افراد کو ایک لفظ میں ، نفسِ مطمئنہ (complex-free soul) کہاجاسکتاہے، یعنی ربانی انسان ۔ انھیں صفات کے حامل افراد کو جنت میں آبادکاری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page