Tazkirul Quran, Qur’an 9:41–42
Repentance (Al-Tawbah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
مدینہ کے منافقین میں ایک طبقہ کم زور عقیدہ کے مسلمانوں کا تھا۔ انھوں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کا اقرار کیا تھا۔ وہ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کرتے تھے جو ان کی دنیوی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوں۔ مگر جب اسلام کا تقاضا ان کے دنیوی تقاضوں سے ٹکراتا تو ایسے موقع پر وہ اسلامی تقاضے کو چھوڑ کر اپنے دنیوی تقاضے کو پکڑ لیتے۔ مدینہ کے معاشرہ میں مومن اس شخص کانام تھا جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کیے ہوئے ہو اور منافق وہ تھا جو اسلام کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لیے تیار نہ ہو۔
تبوک کا معاملہ ایک علامتی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میںمومن کون ہوتاہے اور منافق کون۔ اس موقع پر روم جیسی بڑی اور منظم طاقت سے مقابلہ کے لیے نکلنا تھا۔ زمانہ شدید گرمی کا تھا۔ فصل بالکل کاٹنے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ہر قسم کی ناسازگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے شام کی دوردراز سرحد پر پہنچناتھا۔ پھر مسلمانوں میں سامان والے تھے اور کچھ بے سامان والے۔ کچھ آزاد تھے اور کچھ اپنے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ مگر حکم ہوا کہ ہر حال میں نکلو، کسی بھی چیز کو اپنے لیے عذر نہ بناؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے یہاں اصل مسئلہ مقدار کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کو پیش کردے۔ یہی دراصل جنت کی قیمت ہے، خواہ وہ بظاہر دیکھنے والوں کے نزدیک کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔