Tazkirul Quran (Urdu) · Repentance (Al-Tawbah)

Tazkirul Quran, Qur’an 9:43–46

Repentance (Al-Tawbah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

منافق کی خاص پہچان یہ ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ بے مشقت سفر کرکے خدمت اسلام کا ایک بڑا کریڈٹ مل رہا ہے تو وہ فوراً ایسے سفر کے لیے تیار ہوجاتاہے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا سفر درپیش ہوجس میں مشقتیں ہوں اور سب کچھ کرکے بھی بظاہر کوئی عزت اور کامیابی ملنے والی نہ ہو تو ایسی دینی مہم کے لیے اس کے اندر رغبت پیدا نہیں ہوتی۔

ایک حقیقی دینی مہم سامنے ہو اور آدمی عذرات پیش کرکے اس سے الگ رہنا چاہے تو یہ صاف طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کے دین کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام نہیں دیا ہے۔ عذر پیش کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے مقابلہ میں کوئی اور چیز آدمی کے نزدیک زیادہ اہمت رکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا عذر کسی آدمی کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرنے والا ہے، نہ یہ کہ اس کی بنا پر اس کو مقبولین کی فہرست میں شامل کیاجائے۔ منافقت دراصل خدا سے بے پروا ہو کر بندوں کی پروا کرنا ہے۔ آدمی اگر خدا کی قدرت کو جان لے تو وہ کبھی ایسا نہ کرے۔

منافق وہ ہے جو اسلام کے نفع بخش یا بے ضرر پہلوؤں میں آگے آگے رہے مگر جب اس کے مفادات پر زد پڑتی نظر آئے تو وہ پیچھے ہٹ جائے۔ ایسے مواقع پر اس قسم کے کمزور لوگ جس چیز کا سہارا لیتے ہیں وہ عذر ہے۔ وہ اپنی بے عملی کو خوبصورت توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سربراہ اگر اجتماعی مصالح کے پیش نظر ان کے عذر کو قبول کرلے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے اپنے الفاظ کے پردے میں نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی بے عملی کو چھپا لیا۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور وہ ہر آدمی کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کا راز کبھی دنیا میں کھول دیتا ہے اور آخرت میں تو بہر حال ہر ایک کا راز کھولا جانے والا ہے۔

کسی کا لڑکا بیمار ہو یا کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو اس وقت وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو اس سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی اور اس کا مال تو اسی لیے ہے کہ ایسا کوئی موقع آئے تو وہ اپنا سب کچھ نثار کرکے ان کے کام آسکے۔ ایسا کوئی وقت اس کے لیے بڑھ کر قربانی دینے کا ہوتا ہے، نہ کہ عذرات کی آڑ تلاش کرنے کا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ جو شخص اپنے دین میں سنجیدہ ہو وہ دین کے لیے قربانی کا موقع آنے پر کبھی عذر تلاش نہیں کرے گا۔ اس کے سینے میں جو ایمانی جذبات بے قرار تھے وہ تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھے کہ جب کوئی موقع آئے تو وہ اپنے آپ کو نثار کرکے خدا کی نظر میں اپنے کو وفادار ثابت کرسکے۔ پھر ایسا موقع پیش آنے پر وہ عذر کا سہارا کیوں ڈھونڈے گا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے اور ڈر کا جذبہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ قوی جذبہ ہے۔ ڈر کا جذبہ دوسرے تمام جذبات پر غالب آجاتاہے۔ جس چیز سے آدمی کو ڈر اور اندیشہ کا تعلق ہو اس کے بارے میں وہ آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ڈر کی سطح پر خدا کا مومن بن جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرناچاہیے۔

آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے لیے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page