Urdu book · احیاء اسلام

اصحابِ رسول

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

له الحديد (1) قال ابو الدحداح الانصاري يا رسول تو حضرت ابو دحداح انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ اللہ وان الله يريد منا القرض قال نعم يا ابا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے خدا کے رسول، کیا الدحداح قال ارنی یدك یا رسول الله - اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں قال فنادله يده قال فانی قد اقرضت اے ابو دحداح ۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول، اپنا ربی حائطي - وله حائط فيه ستمائة نخلة ہاتھ لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے وام الدحداح فيه وعيالها - قال فجاء ہاتھ میں دیا۔ ابو دحداح نے کہا کہ میں نے اپنا باغ اپنے ابو الدحداح فناد ها يا ام الدحداح قالت رب کو قرض میں دے دیا۔ ان کا ایک کھجوروں کا باغ تھا لبيك - قال اخرجى فقد اقرضته ربی عز وجل جس میں چھ سو درخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام فقالت له ربح بيعك يا ابا الدحداح و دحداح اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں تھیں۔ وہ باغ میں نقلت منه متاعها وصبيانها- وان رسول واپس آئے اور آواز دی کہ اے ام دحداح۔ انھوں نے الله صلى الله عليه قال كم من عذق رداح کہا ہاں۔ ابو دحداح نے کہا باغ سے نکلو، کیونکہ اس کو في الجنة لابى الدحداح میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا: (تفسیر ابن کثیر) اے ابو دحداح آپ کی تجارت کامیاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو دحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔ یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لئے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاں دوبارہ ذہن میں رکھ لیجئے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نام پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا، وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ ایک غیر مسلم مدعی میں اپنا اثاثہ پیش کرنا تھا، جب کہ آج کا آدمی ایک مسلم مدعی میں اپنا اثاثہ پیش کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page