اصحابِ رسول
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا تاج دوسرے کے سر پر رکھنا مدینہ میں عبداللہ بن ابی بہت عاقل اور صاحبِ شخصیت آدمی تھا، وہ مدینہ کا سب سے زیادہ ممتاز سردار سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ مدینہ کے باشندوں کو اپنا اختلاف وانتشار ختم کرنے کا احساس ہوا تو انھوں نے عبداللہ بن ابی کو منتخب کیا کہ اس کو اپنا بادشاہ بنائیں اور اس کی علامت کے طور پر اس کو ایک تاج پہنائیں (فاما عيد الله بن ابی فکان قومه قد نظموا له الخرز لينو جوه ثم يملکوه عليهم، سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۱۶) عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کا انتظام مکمل ہو چکا تھا کہ عین اس وقت اسلام مدینہ میں پہنچ گیا۔ مدینہ کے باشندوں کی فطرت نے اس کی صداقت کی گواہی دی اور اسلام گھر گھر میں پھیلنے لگا۔ اس کے بعد مدینہ کے باشندوں کا ایک نمائندہ وفدکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کی زبان سے آپ کا پیغام سنا۔ انھیں نظر آیا کہ مدینہ کی اجتماعی تنظیم کے لیے انھیں جو شخصیت درکار ہے وہ زیادہ بہتر طور پر محمد بن عبداللہ کی صورت میں موجود ہے۔ انھوں نے مدینہ کے لوگوں کی طرف سے آپ کو پیش کش کی کہ آپ مدینہ آئیں اور وہ ہاں ہمارے سردار بن کر رہیں۔ اسلامی تاریخ کا یہی وہ واقعہ ہے جو بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ اپنا تاج دوسرے آدمی کے سر پر رکھ دینے کے ہم معنی تھا۔ قدیم قبائکی دور میں ایسا کوئی واقعہ بے حد نادر واقعہ تھا۔ اپنی قوم یا قبیلہ سے باہر کسی آدمی کو اپنا غیر مشروط سردار بنا لینا ہمیشہ انسان کے لیے مشکل ترین کام رہا ہے اور قدیم زمانہ میں تو یہ اور بھی زیادہ مشکل تھا۔ مزید یہ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت "محمد" اس پر عظمت ہستی کا نام نہ تھا جس سے ہم آج واقف ہیں۔ اس وقت محمد ایک ایسے انسان تھے جن کو ان کے اہل وطن نے نکال دیا تھا۔ جن کے ساتھ قومی عصبیت اور تاریخی عظمت شامل نہ ہوئی تھی۔ جو نہ صرف متنازعہ شخصیت تھے بلکہ ایک لٹے ہوئے بے گھر انسان تھے۔ جن کو اپنا سب کچھ دے دینا تھا اور ان سے پانا کچھ بھی نہ تھا ۔ بیسویں صدی میں کسی برنارڈشا کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے لیے یورپ کی سرداری کی پیش کش کرے ۔ مگر چھٹی صدی عیسوی میں کسی کے لیے اس کا تصور بھی ناممکن تھا کہ وہ آپ کو پیغمبر مان کر آپ کو اپنا اجتماعی امام بنالے۔ اپنی محدودیت کو جاننا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرتے۔ آپ اپنے اصحاب کو جمع کرتے اور معاملہ کو بیان کر کے فرماتے کہ اشیروا علی ایہا الناس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader