Urdu book · احیاء اسلام

اصحابِ رسول

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بے سبب نہ تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وذلك انهم حين بايعوه بالعقبة قالوا : يارسول الله ، إنا بُرَاء من ذمامك حتى تصل إلى ديارنا، فاذا وصلت إلينا فأنت في ذمتنا نمنعك مما نمنع منه أبناءنا ونساءنا ، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخوف الا تكون الانصار ترى عليها نصره الا ممن دهمه بالمدينة من عدوه ، وأن ليس عليهم ان يسير بهم الى عدو من بلادهم ، (سيرة ابن هشام ، جزء ثانی ، صفحه ۲۵۳) اور ایسا اس لئے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے دیس میں پہنچ جائیں۔ جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میں ہوں گے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں۔ انصار کی بیعت قدیم عربی اصطلاح کے مطابق بیعت نساء (دفاعی بیعت) تھی۔ اس کے مطابق مدینہ سے ۸۰ میل دور بدر کے مقام پر جا کر لڑنا ان کے لئے ضروری نہ تھا۔ مگر انصار نے اس کو اپنے لئے عذر نہیں بنایا۔ وہ قانونی حد کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر کے میدان میں جا کر قربانی پیش کی۔ اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہنا اخرج الطبرانى عن المسور بن مخرمة قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه فقال ان الله بعثنى رحمة للناس كافة فادوا عنى رحمكم الله ، ولا تختلفوا كما اختلفت الحواريون على عيسى بن مريم فانه دعاهم الى مثل ما ادعوكم اليه فاما من بَعُدَ مكانه فكرهه فشكا عيسى بن مريم ذلك الى الله عز وجل ۔۔۔۔ فقال اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم نحن يا رسول الله نؤدى اليك فابعثنا حيث شئت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انھوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لئے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکار رہا ہوں ۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا ناگوار ہوا ۔ تو عیسیٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔ رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page