Urdu book · احیاء اسلام

اصحابِ رسول

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم آپ کی ذمہ داری کو ادا کریں گے۔ آپ ہم کو بھیجیئے جہاں آپ چاہیں۔ اجتماعی کام میں رکاوٹ ڈالنے والی سب سے بڑی چیز اختلاف ہے۔ مگر صحابہ کرام کو اللہ کے خوف نے اتنا بے نفس بنا دیا تھا کہ وہ اختلافات سے بلند ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ کے زمانے میں انھوں نے عرب میں اور اطراف عرب میں آپ کی منشا کے مطابق اسلام کی دعوت پوری طرح پہنچائی۔ آپ کی وفات کے بعد وہ مال وجاہ کے حصول میں نہیں پڑے بلکہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے۔ ہر صحابی کا گھر اس زمانہ میں ایک چھوٹا مدرسہ بنا ہوا تھا جہاں وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کو عربی سکھاتے اور قرآن وسنت کی تعلیم دیتے ۔ اس زمانہ میں ایک طرف مسلمانوں کا ایک طبقہ فتوحات اور سیاسی انتظامات میں لگا ہوا تھا۔ عام طریقہ کے مطابق اصحاب رسول کو اپنا سیاسی حصہ لینے میں سرگرم ہونا چاہئے تھا۔ مگر وہ اس سے بے پروا ہو گئے۔ انھوں نے اسلامی فتوحات کے ذریعہ پیدا ہونے والی فضا کو تبلیغ دین کے لئے استعمال کیا، اس طرح ان کے اور ان کے شاگردوں کے خاموش پچاس سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ جغرافی خطہ وجود میں آیا جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں نے نہ صرف اپنے دین کو بدلا بلکہ ان کی زبان اور ان کی تہذیب بھی بدل گئی۔ پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لئے راضی ہو جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سب سے پہلا مسئلہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انصار بنو ساعدہ کی چو پال (سقیفہ) میں جمع ہو گئے۔ اس وقت سعد بن عبادہ انصار کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے سردار تھے۔ چنانچہ انصار میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ مقرر کیا جانا چاہئے۔ مہاجرین کو یہ خبر ملی تو ان کے ممتاز افراد تیزی سے چل کر مذکورہ مقام پر پہنچے۔ حضرت ابو بکر نے تقریر کرتے ہوئے کہا : أما ما ذكر تم فيكم من خير فأنتم له اهل، دلن (اے انصار) تم نے اپنی جس فضیلت کا ذکر کیا ہے اس کے تعرف العرب هذا الامر الا لهذ الحي من قريش : تم اہل ہو۔ مگر عرب اس معاملہ (امارت) کو قریش کے سوا کسی هم اوسط العرب نسباً و داراً ، وقد رضيت لكم اور قبیلہ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ عربوں میں نسب احد هذين الرجلين فبايعوا ايهما شئتم اور مقام کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں۔ میں تمھارے لئے ان دو آدمیوں (عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح) میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ تم دونوں میں سے جس سے چاہو بیعت کر لو (سیرۃ ابن ہشام، جز رابع صفحه ۳۳۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page