اصحابِ رسول
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے ۔ اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانی لگاتا ہے۔ کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس ۴: ۳۲-۲۶) انجیل اور قرآن کی اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر آخرالزمان کے اصحاب کا اجتماعی ارتقاء درخت کی مانند ہوگا۔ اس کا آغاز بیج سے ہوگا، پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھے گا اور اپنا تنہ مضبوط کرتے ہوئے اوپر اٹھے گا۔ یہاں تک کہ فطری رفتار سے تدریجی ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔ اس کی ترقی اتنی شان دار ہوگی کہ ایک طرف اہل ایمان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور دوسری طرف دشمن دانت ہیں رہے ہوں گے کہ اس کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف ہمارا کچھ بس نہیں چلتا۔ اسلام کو درخت کی طرح ترقی دینے کے لئے خدا کا یہ منصوبہ تھا جو صحابہ کرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تاہم یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ جلد بازی کے بجائے صبر کو اپنا طریقہ بنائیں ۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ فوری محرکات کے تحت وہ کوئی اقدام نہ کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے قوانین فطرت کی پیروی کریں۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اس سے بے پروا ہو کر کام کریں کہ نتیجہ ان کی زندگی میں سامنے آتا ہے یا ان کے بعد۔ " درخت اسلام " کو اگانے کے لئے ضرورت تھی کہ وہ اپنے جذبات کو کچلیں اور اپنی آنکھوں کو دفن کر دیں۔ صحابہ کرام نے یہ سب کچھ کیا۔ انھوں نے کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے حوالہ کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ زمین میں خدا کا دین ایک ایسے ابدی باغ کی صورت میں کھڑا ہو گیا جس کو ساری دنیا مل کر بھی مٹانا چاہے تو نہ مٹا سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader