اصحابِ رسول
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
فصدت لہ فلما حملت علیہ السیف ولول فاذا امرأة فاكر مت سیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اضرب بہ امرأة (سیرت ابن ہشام ج ۳، صفحہ ۱۴) ہوا بھار رہا تھا۔ میں اس کی طرف لپکا۔ جب میں نے اس پر تلوار اٹھائی تو اس نے کہا یا ویلاہ (ہائے تباہی) اب میں نے جانا کہ یہ ایک عورت ہے۔ تو میں نے خدا کے رسول کی تلوار کو اس سے پاک رکھا کہ اس سے کسی عورت کو قتل کروں اس واقعہ کو ایک صحابی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : پھر میں نے دیکھا کہ ان کی تلوار ہند بنت عتبہ کے سر پر اٹھ گئی ہے مگر اس کے بعد انہوں نے اپنی تلوار اس سے ہٹالی رغم رایته قد حمل السیف علی مفرق راس هند بنت عتبة ، ثم عدل السیف عنها) جنگ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو نہ مارا جائے ۔ حضرت ابو دجانہ نے عین قتل و خون کے ہنگامہ میں اس کو یاد رکھا اور اپنی چلی ہوئی تلوار کو درمیان سے روک لیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو اپنے جذبات پر کتنا زیادہ قابو تھا۔ ان کے افعال ان کے شور کے ماتحت تھے نہ کہ ان کے جذبات کے ماتحت۔ وہ انتہائی اشتعال انگیز موقع پر انتہائی ٹھنڈا فیصلہ کرسکتے تھے۔ وہ غصہ اور انتقام کی آخری حد پر پہنچ کر بھی اچانک اپنا ذہن تبدیل کرسکتے تھے ۔ وہ ایک رخ پر پوری رفتار سے چل پڑنے کے بعد معا اپنا رخ دوسری طرف پھیر سکتے تھے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر عملاً وہ اتنی زیادہ مشکل ہے کہ اس پر کوئی ایسا شخص ہی قادر ہوسکتا ہے جو خدا سے اس طرح ڈرنے والا ہو گویا خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوا ہے اور وہ اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ درخت کی طرح آگے بڑھنا قرآن میں انجیل اور تورات کے دو حوالوں کا ذکر ہے۔ تورات کا حوالہ صحابہ کرام کے انفرادی اوصاف سے متعلق ہے۔ اس کے بعد انجیل کے حوالے سے ان کی اجتماعی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ومثلهم في الانجيل كزرع اخرج شطأه فآزره اور انجیل میں ان کی مثال یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو ۔ فاستغلظ فاستوى علی سوقه يعجب الزراع اس نے نکالا اپنا تنکو۔ پھر اس کو مضبوط کیا۔ پھر وہ موٹا ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين آمنوا و ہوا۔ پھر اپنے تنہ پر کھڑا ہو گیا۔ اچھا لگتا ہے کسانوں کو عملوا الصالحات منهم مغفرة واجراً عظيماً تا کہ منکروں کا دل ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے (الفتح ۔ آخر) جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ موجودہ انجیل میں تمثیل ان لفظوں میں ہے اور اس نے کہا، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader