مردانِ کار کی ضرورت
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں وہ سب کچھ بھر دیا ہے جس کی اسے اپنی زندگی میں ضرورت ہے۔ عام حالات میں یہ فطرت ڈھکی ہوئی رہتی ہے۔ اسی انسانی فطرت سے جمود اور تعصب اور بے شعوری کے پردوں کو ہٹانا اسلامی دعوت کا اصل کام ہے۔ ان پردوں کے ہٹتے ہی انسانی فطرت اس آفاقی روشنی میں آ جاتی ہے جس سے تمام زمین و آسمان جگمگارہے ہیں۔ اس کے بعد ہر چیز اس کو اپنے واقعی روپ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کے واقعی روپ میں دیکھ لے اس کے لئے پروگرام کا مسئلہ اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے جتنا آنکھ والے ایک شخص کے لئے سیڑھی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی عمارت کے اوپر چڑھنا۔ یہاں میں ایک واقعہ نقل کروں گا جو اس مسئلہ کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کرتا ہے۔ ایک ہندوستانی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ طرابلس میں رہتی تھیں۔ وہ عربی نہیں جانتی تھیں۔ وہاں ان کی زندگی بالکل گھریلو زندگی تھی۔ باہر کی دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ایک روز رات کو اچانک ان کے شوہر کے پیٹ میں سخت درد اٹھا۔ گھر میں بیوی کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا جو ڈاکٹر کو بلائے۔ طرابلس میں گھریلو ٹیلی فون بھی نہیں ہوتے کہ ٹیلی فون پر ڈاکٹر یا اسپتال سے رابطہ قائم کیا جائے۔ مگر بستر پر تڑپتا ہوا شوہر اور اس سے قلبی تعلق خاتون کے لئے اپنی ہر کمی کا بدل بن گیا۔ وہ رات کے سناٹے میں اپنے گھر سے نکلی۔ راستہ سے نا واقفیت، مقامی زبان سے اجنبیت، کسی ڈاکٹر کا نام یا پتہ معلوم نہ ہونا کوئی بھی چیز اس کے لئے رکاوٹ نہ بنی۔ وہ اپنی بیتابی کی رہنمائی میں چلتی رہی۔ یہاں تک کہ بے شمار مرحلوں سے گزرنے کے بعد بالآخر وہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کے گھر پہنچ گئی۔ پاکستانی ڈاکٹر اس کی زبان (اردو) جانتا تھا۔ وہ فوراً اس کے ساتھ آیا۔ دیکھنے کے بعد اس نے سمجھ لیا کہ یہ اپنڈکس کا کیس ہے اور اس کا فوراً آپریشن ہونا چاہئے، چنانچہ اسی وقت وہ اس کو اپنی گاڑی میں بٹھاکر اسپتال لے گیا۔ وہاں اس کا آپریشن ہوا اور چند دن کے بعد وہ اچھا ہو کر اپنے گھر واپس آگیا۔ اس قسم کا واقعہ ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ ہر آدمی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں پہلے سے اس کے پاس کوئی نقشہ عمل نہیں ہوتا۔ مگر وہ پوری طرح اس کا مقابلہ کرتا ہے اور بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔ تاہم اس قسم کے قصے کسی کے ساتھ ہمیشہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے ذاتی معاملات میں پیش آتے ہیں۔ اگر تعلق اور دلچسپی کا یہی درجہ دین کے ساتھ پیدا ہو جائے تو دین کے معاملات بھی اسی طرح حل ہونے لگیں جس طرح لوگ اپنے ذاتی معاملات روزانہ حل کر رہے ہیں۔ پھر لوگوں کے لئے نہ دینی تقاضوں کو جاننا مشکل رہے اور نہ دین کے لئے قربانی دینا۔ وہ اپنے پروگرام کو اسی طرح پالیں جس طرح مذکورہ خاتون نے اپنے ڈاکٹر کو پالیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader