مردانِ کار کی ضرورت
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم سے اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس نقشہ کار کیا ہے۔ آہ، لوگوں کو کس طرح بتایا جائے کہ نقشہ کار کی نہیں بلکہ مردانِ کار کی ضرورت ہے۔ کوئی واقعہ خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، اس کو برپا کرنے والے ہمیشہ انسان ہوتے ہیں۔ نہ کوئی پرو گرام یا نقشہ کار۔ اجتماعی زندگی میں انقلاب ہمیشہ وہ لوگ لاتے ہیں جو اپنی ذات میں پرو گرام ہوں نہ کہ وہ لوگ جنہیں کوئی لگ بندھا دھڑادے دیا جائے اور اس پر وہ دوڑتے رہیں۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کا واقعہ ہے۔ ایک بار انہوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد ہاتھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے ۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے۔ اس وقت اورنگ زیب کے پیچھے ان کے وزیر سعداللہ خاں کھڑے ہوئے تھے۔ اور نگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعداللہ خاں نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پر چم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے۔ اور نگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے اور اس کے بعد تاثر کے ساتھ کہا: سعداللہ، مردے خواہم (سعداللہ، میں ایک مردہ چاہتا ہوں) اور نگ زیب کے پاس وہ چیز مکمل طور پر موجود تھی جس کو نقشہ کار کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے پاس حکومت اور وسائل بھی پوری طرح موجود تھے۔ اس کے باجود وہ مغل سلطنت کو مستحکم بنانے میں اس لئے ناکام ہو گیا کہ اس کے پاس مردانِ کار نہ تھے۔ اگر اور نگ زیب کے پاس سچے مردانِ کار کی ٹیم موجود ہوتی تو اور نگ زیب کے بعد آنے والی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جیسا کہ اب ہمیں نظر آتی ہے۔ اسلام کے مشن کو آج انسانوں کی بھیڑ میں انسان کی تلاش ہے۔ خدا کے نام پر بولنے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس کو خدا کے خوف نے چپ کر رکھا ہو، دنیا کے پیچھے دوڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کی راہ دیکھ رہا ہے جو آخرت کی خاطر کھڑا ہو گیا ہو۔ خدا کے نام پر خوشیاں منانے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو ڈھونڈ رہا ہے جس کو خدا کی یاد نے رونے پر مجبور کر دیا ہو۔ اپنی انا کا جھنڈا اٹھانے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس نے خدا کو اس طرح پایا ہو کہ اس کے پاس ایک بے انا روح کے سوا اور کچھ باقی نہ رہ گیا ہو۔ دین کے نام پر لڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو تلاش کر رہا ہے جس نے دین کی خاطر لڑائی بھڑائی چھوڑ دی ہو۔ حاسبوا اغیارکم کا جھنڈا اٹھانے والی فوج کے درمیان وہ ان لوگوں کا انتظار کر رہا ہے جو حاسبوا انفسکم کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آج اسلام کو مطلوب ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ اسلام دوبارہ فکری غلبہ کا مقام حاصل کرے گا۔ آج اسلام کو ایسے انسان درکار ہیں جو اپنے کو اس حد تک خالص کریں کہ وہ ظواہر سے گزر کر حقیقت کو دیکھنے لگیں۔ جو اس صبر کے حامل ہوں کہ غیر متعلق مسائل سے اپنا دامن بچا کر اصل نشانہ پر اپنی ساری توجہ مرکوز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader