مردانِ کار کی ضرورت
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھیں، جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اتنا ہی سمجھیں کہ دنیا کی ہر قربانی دینا ان کے لئے آسان ہو جائے۔ جو اتنے زیادہ حقیقت پسند ہوں کہ اپنے مقابلہ میں دوسروں کی خوبی دیکھ سکیں اور اپنی سیٹ پر دوسرے کو بیٹھا سکیں۔ جو حقائق کو اس طرح دیکھنے لگیں کہ کوئی لفظی شوشہ انہیں اس سے بدکا نے والا ثابت نہ ہو۔ جو منفی جذبات سے اس قدر خالی ہوں کہ کوئی ذاتی رنجش انہیں منحرف نہ کر سکے اور کسی کی ترقی انہیں حسد میں مبتلا نہ کرے. جو دوسرے کو اپنے مقام پر رکھ کر دیکھیں اور اپنے کو دوسرے کے مقام پر۔ جو ظواهر سے زیادہ حقیقت کے دلدادہ ہوں۔ اور حال سے زیادہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ دنیا کے بجائے آخرت میں جیتے ہوں اور اپنی بڑائی کے بجائے خدا کی بڑائی میں گم ہو چکے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں نے دورِ اول میں اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کیا تھا اور ایسے ہی لوگ دورِ ثانی میں بھی اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پروگرام کا سوال، اصلا افراد تیار کرنے کا سوال ہے۔ افراد کسی تربیتی نظام میں نہیں ڈھلتے اور نہ کسی قسم کے خارجی ہنگاموں کے درمیان بنتے ہیں۔ افراد تیار کرنے کی صورت تو صرف یہ ہے کہ دینِ قیم کی بنیاد پر ایک ایسے بے آمیز تحریک اٹھے جو فطرتِ انسانی کو مس کرنے والی ہو۔ جو آدمی کے باطن میں ضرب لگا کر اس کے اندر سوئے ہوئے ربانی انسان کو جگا دے، جو انسان کے فکر میں خدا کا رنگ اس طرح گھولے کہ اس کی پوری ہستی خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ ایسی تحریک حالات کے رد عمل کے طور پر نہیں اٹھتی۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کا ابدی نغمہ چھیڑنے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ کتاب الہی کی حکمت کو لسانِ عصر میں کھولتی ہے۔ وہ پیغمبرانہ دعوت کا زمانی اظہار ہوتی ہے۔ وہ خدا اور انسان کے درمیان ربط بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ سورج کی روشنی اور پھولوں کی مہک کی طرح خدا کے تخلیقی حسن کا نمونہ ہوتی ہے۔ کسی معاشرہ میں ایسی تحریک کا اٹھنا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہاں وہ ربانی انسان پیدا کریں جنہیں جو اپنی ذات میں پرو گرام ہوں۔ تاہم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی دعوت اٹھنے کے بعد بھی عملاً صرف وہی لوگ اس سے فیض یاب ہوتے ہیں جو پہلے سے اپنے اندر زرخیزی کا مادہ رکھتے ہوں۔ بنجر زمین بارش سے پہلے بھی بنجر رہتی ہے اور بارش کے بعد بھی۔ نجرا (والبلد الطيب يخرج نباته بإذن ربه والذى خبث لا يخرج الا نكدا، الاعراف ۵۸) اسلام کی نئی تاریخ شروع کرنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ انسانوں کی ایسی جماعت ہے جس کی فطری صلاحیتیں زندہ ہوں۔ تاکہ اس کو جب اسلام کی دعوت فطرت کا مخاطب بتایا جائے تو وہ اس کو صحیح طور پر قبول کر سکے۔ جب اس کے اندر اسلام کا بیچ ڈالا جائے تو اس کی کھیتی اس طرح لہلہا اٹھے جس طرح زرخیز زمین میں دانہ ڈالنے کے بعد اس کی فصل لہلہا اٹھتی ہے۔ اسلام کی دعوت اپنی قبولیت کے لئے آج ایسے کسی گردہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader