طریق مطالعہ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
کا جذ بہ ابھرتا ، وہ تقویٰ اور اطاعت کی زندگی اختیار کرتے۔ مگر جب انھوں نے ان واقعات کو اسرائیل دشمن طاقتوں کا ظلم قرار دیا تو اس نے صرف ان کی غفلت اور سرکشی میں اضافہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی سزا کو کھلے فرشتوں کے ذریعہ نہیں بھیجتا۔ بلکہ عام انسانی واقعات کے درمیان ان کا نفاذ کرتا ہے۔ تاکہ امتحان کا پردہ باقی رہے۔ جن کے اندر کچھ صلاحیت موجود ہے وہ اس کو خدائی معاملہ سمجھ کر چونکیں اور اپنی اصلاح کریں۔ اور جو لوگ بے حسی اور غفلت میں ڈوب چکے ہیں وہ اس کو انسان کا ظلم اور سازش قرار دے کر اپنی سرکشی میں اضافہ کرتے رہیں۔ مسلمان آج جن ناموافق حالات میں اپنے کو گھرا پاتے ہیں ان کو دشمنوں کی کارروائی قرار دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کا پورا طرز فکر منفی اور غیر حقیقت پسندا نہ ہوکر رہ گیا ہے ، ان کے اندر وہ مثبت ذہن نہیں ابھرا جو کسی صالح اور نتیجہ خیز جد وجہد کی لازمی بنیاد ہے۔ حالات کو ظلم اور سازش کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی بنا پر انھیں کسی معاملہ میں اپنی غلطی نظر نہیں آتی ، وہ بس دوسروں کو یک طرفہ الزام دیتے رہتے ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کا دینی طرز فکر بالکل سیاست رفی ہو گیا ہے جب کہ صحیح مسلم فکر وہ ہے جو آخرت رفی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک بے کردار قوم بن کر رہ گئے ہیں، کیونکہ کردار اپنے آپ پر ذمہ داری لینے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ حقوق طلبی کے سوا اپنی کوئی ذمہ داری جانتے ہی نہیں۔ اسی سبب سے ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا طرز عمل اصولی کے بجائے قومی ہو گیا ہے، کیونکہ جو لوگ دوسروں کو اپنا قومی حریف سمجھیں ان کی روش قدرتی طور پر قومی ہو جائے گی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آپس کی لڑائی آج مسلمانوں میں تمام قوموں سے زیادہ پائی جاتی ہے ، کیونکہ غیروں کو جب وہ اپنی جھنجلاہٹ کا شکار نہیں بنا پاتے تو اپنوں ہی کے اوپر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ پھر اسی غلط فکری کا یہ عظیم نقصان مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر ردعوتی ذہن نہیں ابھرا جو کہ امت مسلمہ کا اصل مقصدِ وجود ہے۔ دوسری قوموں کو خدا کے دین رحمت کا مدعو بنانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ داعی کے دل میں ان کے لئے محبت اور خیر خواہی کا جذ بہ پایا جاتا ہو۔ مگر ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میں سوچنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کے بارے میں مسلمانوں کے اندر مخالفانہ نفسیات پیدا ہوگی۔ مسلمانوں کے دل میں ان مدعو اقوام کے لئے نفرت اور بیزاری کے سوا کسی اور جذبہ کی گنجائش ہی نہ تھی، پھر وہ ان کو دین رحمت کا مخاطب بناتے تو کیوں کر بناتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader