طریق مطالعہ
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ تمھارے ملک میں گھس کر ہر طرف تھیں گے۔ یہ ایک وعدہ تھا جو پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمھاری باری این پر لوٹائی اور مال و اولاد سے تمھاری مدد کی اور تمھاری تعداد بڑھادی۔ اگر تم اچھے کام کرو گے تو اپنے لئے کرو گے۔ اور اگر تم برے کام کرو گے تو اپنے لئے کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تمھارے اوپر مسلط کیا تاکہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں گھس پڑیں جس طرح پہلی بارگھس پڑے تھے اور تاکہ جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اس کو تہس نہس کردالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ تمھارارب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے (بنی اسرائیل ۸-۴) جیسا کہ اوپر کے حوالوں سے ظاہر ہے ، یہود پر خدا کی یہ سزائیں انسانی ہاتھوں سے جاری کی گئیں۔ مثلاً ۷۲۱ ق م میں سامریہ کو مغلوب کر کے حکومتِ اسرائیل کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ہزاروں یہودی مار ڈالے گئے۔ فلسطین کے بڑے حصہ سے یہودیوں کو نکال کر وہاں غیر قوم کے لوگوں کو بسادیا گیا۔ یہ کام خدا کے فرشتوں نے آکر انجام نہیں دیا بلکہ یہ اشوری فرماں روا سارگون (Sargon II) تھا جس نے اس خدائی سزا کو یہود کے اوپر نافذ کیا ۔ ۵۸۶ ق م میں جب یروشلم کے یہودی قتل کئے گئے اور غلام بنائے گئے اور بیت المقدس کو جلا دیا گیا تو یہ کام بھی آسمانی طاقتوں کے ذریعہ نہیں ہوا بلکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر (Nebuchadnezzar) نے یہ سارے کام انجام دئے ۔ ۱۶۸ ق م میں بیت المقدس پر حملہ ہوا۔ یہودیوں کو غلام بنا کر ان کے مقدس صحیفوں کو جلا دیا گیا۔ اس بار بھی یہ کام مافوق ذرائع سے نہیں ہوا بلکہ شام کا بادشاہ انطیوخوس چہارم (Antiochus IV) تھا جس نے یہود کے خلاف یہ تمام سفاکیاں کیں۔ ۱۴۳ ق م میں ایک اجنبی قوم فلسطین میں داخل ہوئی ۔ اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کو اپنا غلام بنالیا ۔ یہ واقعہ جس کے ذریعہ سے ہوا وہ دوبارہ کوئی آسمانی مخلوق نہیں تھی بلکہ یہ رومی فاتح پومپی (Pompey) تھا جس نے اس عمل کو انجام دیا۔ اسی طرح ۷۰ء میں بیت المقدس پر حملہ ہوا اور میکل سلیمانی کو ڈھا دیا گیا۔ یہود کے مقدس شہر کو ملیہ کے ڈہیر میں تبدیل کر دیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ یہودی قتل ہوئے اور بقیہ غلام بنائے گئے ۔ اس بار بھی یہ کام خود خدا نے ظاہر ہو کر نہیں کیا بلکہ یہ رومی بادشاہ تیتس (Titus) تھا جس نے اس تخریبی منصوبه کو مکمل کیا ۔ اس طرح کے تمام واقعات کے بارے میں یہودی کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل دشمن طاقتوں کی سازش تھی، ان کا خدائی سزا سے کوئی تعلق نہیں۔ ان واقعات کی انسانی نوعیت انھیں یہ کہنے کا پورا موقع دے رہی ہے۔ مگر قرآن اور بائبل دونوں سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب یہود کے حق میں خدا کی تنبیہی سزائیں تھیں جو انسانوں کے ہاتھوں ان کے اوپر جاری کی گئیں ۔ یہود اگر ان واقعات کو خدا کی طرف سے سمجھتے تو ان کے اندر توبہ اور انابت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader